میں کراچی لٹریچر فیسٹول میں انتظار حسین کو تلاش کررہا تھا۔
پہلے دن وہ ہمیشہ مرکزی پنڈال میں دکھائی دیتے تھے۔
وہاں نہیں ملے۔
خیال آیا کہ مہمان خانے میں چائے پی رہے ہوں گے۔
وہاں کوئی نہیں تھا۔
میں نے سوچا کہ کسی سیشن میں گفتگو کررہے ہوں گے۔
وہ کسی ہال میں نظر نہ آئے۔
پریشان ہوکر میں نے افضال احمد سے پوچھا،
’’انتظار صاحب کہاں چلے گئے؟‘‘
افضال صاحب نے ایک کتاب اٹھاکر کہا،
’’ایک وقت آتا ہے جب ادیب خود افسانہ بن جاتا ہے۔
انتظار حسین اب ادبی میلوں میں نہیں، اپنی کتابوں میں ملیں گے۔‘‘
”دبستانِ بولان، کوئٹہ‘‘ کی ماہانہ محفلِ مسالمہ – رپورٹ: پروفیسر صدف چنگیزی
”منکر نکیر‘‘، سید معین اختر نقوی کا اعلٰی و منفرد مزاحیہ شعری مجموعہ – محمد اکبر خان اکبر
تھا سراپا روح تو بزمِ سخن پیکر ترا – محمد اکبر خان اکبر
حکومت اُردو زبان کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی، وفاقی وزیر اورنگزیب خان کچھی
ثقافت – آمنہ سعید
”صنعتِ تلمیح، کل اور آج‘‘، ادبِ اردو کا ایک اہم موضوع – محمد اکبر خان اکبر
تہذیب کی کہانی: جلد اول تا ششم، مختصر تعارف – یاسر جواد
نامور سفرنامہ نگار حسنین نازشؔ کی نئی کتاب ”100 دن امریکا میں‘‘ کی تقریبِ رونمائی
ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کا اولین سفرنامہ: ”دیو سائی‘‘، ایک ماہرِ معالج کا دلچسپ سفرنامہ – محمد اکبر خان اکبر
”خاموش فضا‘‘ محمدراشد فرہاد کے سفر سخن کی منزلِ چہارم – محمد اکبر خان اکبر











