’’بیٹے، یہ کتابیں شیلف میں لگادو۔‘‘
میں نے حسین کو آواز دی۔
ہم ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔
واحد بتارہا تھا کہ مصباح کا بیٹا کرکٹ کھیلنے لگا ہے۔
ٹنڈولکر کا بیٹا بھی باپ کے ساتھ پریکٹس کرتا تھا۔
ٹیلنٹ اپنی جگہ لیکن بچے باپ سے بھی سیکھتے ہیں۔
حسین آیا اور کتابیں اٹھاکر شیلف میں سجانے لگا۔
اچانک ایک کتاب اس کے ہاتھوں سے پھسل کر گرگئی۔
واحد بے اختیار بولا،
’’میں اپنی کتابیں بچوں سے دور رکھتا ہوں۔
انھیں ہاتھ بھی نہیں لگانے دیتا۔‘‘
میں نے کہا،
’’پھر یہ افسوس کیوں ۔ ۔ ۔
کہ بچوں کو مطالعے کا شوق نہیں؟‘‘
ثقافت – آمنہ سعید
تہذیب کی کہانی: جلد اول تا ششم، مختصر تعارف – یاسر جواد
نامور سفرنامہ نگار حسنین نازشؔ کی نئی کتاب ”100 دن امریکا میں‘‘ کی تقریبِ رونمائی
ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کا اولین سفرنامہ: ”دیو سائی‘‘، ایک ماہرِ معالج کا دلچسپ سفرنامہ – محمد اکبر خان اکبر
”خاموش فضا‘‘ محمدراشد فرہاد کے سفر سخن کی منزلِ چہارم – محمد اکبر خان اکبر
”بلوچستان میں اسٹیج ڈرامہ‘‘، ایک اعلٰی تحقیقی مقالہ – محمد اکبر خان اکبر
اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام اقامتی منصوبے کے تحت ایک بھرپور اور یادگار ادبی نشست
’’نیشا پور سے کوالالمپور‘‘ ایک مطالعہ – ڈاکٹر ایمان شکری
”100 دِن امریکا میں‘‘: حسنین نازشؔ کی سفرنامہ نگاری کا انفرادی رنگ – محمد اکبر خان اکبر
الطیب الصالح کے ناول کا اردو ترجمہ ”زین کی شادی‘‘ – محمد عمران اسحاق











