پاپا! ہر کلاس میں کچھ تنگ کرنے والے ہوتے ہیں۔
میری کلاس میں ایک دو نہیں، پورے آٹھ تھے۔
انھوں نے میری زندگی مشکل بنارکھی تھی۔
میں کتاب کھولتی تو ایک قہقہہ لگاتا۔
جب کچھ لکھتی تو دوسرا منہ چڑاتا۔
کبھی کچھ بولتی تو تیسرا مذاق اڑاتا۔
میں گھر آکر بھی روہانسی ہوئی رہتی تھی۔
لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری۔
جم کر سب کا مقابلہ کیا۔
خوب محنت کی
اور آٹھوں کو شکست دے دی۔
پاپا! آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی
کہ او لیول کا رزلٹ آگیا ہے
اور میں نے پورے آٹھ ایز حاصل کیے ہیں۔
ثقافت – آمنہ سعید
تہذیب کی کہانی: جلد اول تا ششم، مختصر تعارف – یاسر جواد
نامور سفرنامہ نگار حسنین نازشؔ کی نئی کتاب ”100 دن امریکا میں‘‘ کی تقریبِ رونمائی
ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کا اولین سفرنامہ: ”دیو سائی‘‘، ایک ماہرِ معالج کا دلچسپ سفرنامہ – محمد اکبر خان اکبر
”خاموش فضا‘‘ محمدراشد فرہاد کے سفر سخن کی منزلِ چہارم – محمد اکبر خان اکبر
”بلوچستان میں اسٹیج ڈرامہ‘‘، ایک اعلٰی تحقیقی مقالہ – محمد اکبر خان اکبر
اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام اقامتی منصوبے کے تحت ایک بھرپور اور یادگار ادبی نشست
’’نیشا پور سے کوالالمپور‘‘ ایک مطالعہ – ڈاکٹر ایمان شکری
”100 دِن امریکا میں‘‘: حسنین نازشؔ کی سفرنامہ نگاری کا انفرادی رنگ – محمد اکبر خان اکبر
الطیب الصالح کے ناول کا اردو ترجمہ ”زین کی شادی‘‘ – محمد عمران اسحاق











