کتاب نے کہا، ’’میرے پاس ایک کہانی ہے۔‘‘
موبائل فون نے کہا، ’’میرے پاس وٹس ایپ ہے۔‘‘
میں نے کہا، ’’ہاں صحیح، وٹس ایپ پیغامات دیکھتے ہیں۔‘‘
دوست نے کہا، ’’پارک میں واک کریں؟‘‘
موبائل فون نے کہا، ’’فیس بک پر آوارہ گردی کریں؟‘‘
میں نے کہا، ’’ہاں صحیح، فیس بک پر آوارہ گردی کرتے ہیں۔‘‘
بیٹے نے کہا، ’’پاپا، کیرم کھیلیں؟‘‘
موبائل فون نے کہا، ’’کینڈی کرش کھیلیں؟‘‘
میں نے کہا، ’’ہاں صحیح، کینڈی کرش کھیلتے ہیں۔‘‘
بیوی نے کہا، ’’سونے کا ارادہ نہیں؟‘‘
موبائل فون نے کہا، ’’یوٹیوب دیکھنے کا ارادہ نہیں۔‘‘
میں نے کہا، ’’ہاں صحیح، یوٹیوب کی وڈیوز دیکھتے ہیں۔‘‘
ثقافت – آمنہ سعید
تہذیب کی کہانی: جلد اول تا ششم، مختصر تعارف – یاسر جواد
نامور سفرنامہ نگار حسنین نازشؔ کی نئی کتاب ”100 دن امریکا میں‘‘ کی تقریبِ رونمائی
ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کا اولین سفرنامہ: ”دیو سائی‘‘، ایک ماہرِ معالج کا دلچسپ سفرنامہ – محمد اکبر خان اکبر
”خاموش فضا‘‘ محمدراشد فرہاد کے سفر سخن کی منزلِ چہارم – محمد اکبر خان اکبر
”بلوچستان میں اسٹیج ڈرامہ‘‘، ایک اعلٰی تحقیقی مقالہ – محمد اکبر خان اکبر
اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام اقامتی منصوبے کے تحت ایک بھرپور اور یادگار ادبی نشست
’’نیشا پور سے کوالالمپور‘‘ ایک مطالعہ – ڈاکٹر ایمان شکری
”100 دِن امریکا میں‘‘: حسنین نازشؔ کی سفرنامہ نگاری کا انفرادی رنگ – محمد اکبر خان اکبر
الطیب الصالح کے ناول کا اردو ترجمہ ”زین کی شادی‘‘ – محمد عمران اسحاق











