ضخیم گیارہ جلدوں پر مشتمل یہ مشہور سیریز سیلف پبلش کرتے ہوئے سبسکرپشن ماڈل اپنایا گیا: یعنی قارئین قیمت پیشگی ادا کر دیں اور کتاب شائع ہوتے ہیں اُنھیں بھیج دی جائے۔ یہ اردو کتب کی دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ تھا جو کامیاب رہا۔ یورپ میں سترھویں صدی میں ایسا تجربہ الیگزینڈر پوپ نے کیا تھا۔ اِس کے لیے لکھاری/مترجم اور قاری کے درمیان ایک بے مثال اعتبار اور یقین کی ضرورت تھی، جو مجھے حاصل رہا ہے۔
متعدد دوستوں نے ہر ایک جلد کے لیے جزوی یا کُلی سرپرستی بھی کی جن کا تعارف مع تصویر متعلقہ جلد میں دیا گیا ہے۔ ابھی تک سات جلدوں کے لیے تعاون میسر آ چکا ہے، اور اُمید ہے کہ بقیہ چار جلدوں کے سرپرست بھی مل جائیں گے۔
گزشتہ تین سال کے دوران میں نے کوشش کی ہے کہ طباعت کا معیار معقول اور بہترین رکھا جائے۔ یہ سب کچھ قارئین کے تعاون سے ہی ممکن ہو سکا۔ اُن کے پوسٹ شیئر کرنے کی وجہ سے مجھے آج تک اشتہار دینے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئی۔ جلد ہی راجا خیام (لندن) اور ارسلان (کراچی) کے تعاون سے ویب سائیٹ بھی تیار ہو جائے گی۔
جلد اول: ”ہمارا مشرقی ورثہ‘‘:
حصہ اول: تہذیب کی نوعیت اور بنیاد کا تصور مع تعارف؛ حصہ دوم: مشرق قریب: مصر، اشوریہ، بابلیہ، سومیریہ، یہودیہ؛ سکندر اعظم کی موت تک؛ اور حصہ سوم: مشرقِ بعید: ہندوستان، چین اور جاپان میں آغاز سے لے کر ہمارے عہد یعنی بیسویں صدی تک۔ آپ کو مختلف تہذیبوں، اقوام، قبیلوں اور علاقوں کے رسم و رواج سے لے کر قدیم بادشاہتوں اور ہم جیسے یا ہم سے مختلف انسانوں کی کہانی ملے گی۔
جلد دوم: ”قدیم یونان“:
کریٹ اور ٹرائے کے قدیم ترین آثار سے لے کر روم کے ہاتھوں تسخیر تک یونانی تہذیب کے ماخذ، افزائش، بلوغت اور انحطاط کا ریکارڈ۔ مصنف نے اِس پیچیدہ ثقافت کو نہ صرف عروج و زوال کے نشیب و فراز کے علاوہ حیات بخش عناصر کے بھرپور تنوع میں بھی دیکھا ہے: ذرائع حیات اور صنعت و تجارت؛ سیاسی تشکیل اور انقلاب؛ آداب اور اعتقادات؛ شاعری اور موسیقی؛ توہمات اور فلسفیانہ مکاتب۔
جلد سوم: ”روم کا عروج اور مسیحیت“:
روم کس طرح سرفراز ہو کر دُنیا کا آقا بنا، کیسے اِس نے کریمیا سے جبرالٹر اور فرات سے ہیڈریئن کی فصیل تک تحفظ اور امن کی دو صدیاں ممکن بنائیں، کیسے میڈی ٹرینین اور مغربی یورپی دنیا میں کلاسیکی تہذیب پھیلائی، اور طویل انحطاط کے بعد تاریکی اور انتشار میں مسمار اور زمین بوس ہو گئی۔ انسان کی تاریخ کا یہ عظیم ترین ڈراما فتوحات اور افواج، رسوم و رواج، ادب و فن، قانون اور فنِ تعمیر اور انسانی کاوش کا ریکارڈ بھی ہے۔ ایڈیشن خاتمے کے قریب ہے۔
جلد چہارم: ”عصر ایمان“:
سیریز کی اِس سب سے ضخیم جلد میں چوتھی صدی عیسوی سے لے کر تیرھویں صدی تک مسیحیت، اسلام، یہودیت کو اجتماعی انسانی میراث کے طور پر زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ بازنطینی ایمپائر، خلافت راشدہ، اموی اور عباسی سلطنت کے علاوہ عرب و یورپی ممالک، سائنس، علوم، زبانوں اور ادب کا ارتقا، عقل اور عقیدے کی کشمکش اور تشکیل کا گہرائی میں جائزہ اِس کا موضوع ہے۔ اہم واقعات اور شخصیات کا تجزیہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
جلد پنجم: ”حیاتِ نو“:
یہ جلد تیرھویں صدی سے لے کر سولھویں صدی تک اٹلی اور روم میں میں آرٹ، سیاست، فنِ تعمیر اور مذہبی و سیکولر قوتوں کی لڑائی کا حال بیان کرتی ہے جس کے بعد عقلی بحالی کی راہ ہموار ہوئی۔ یہاں ہم ٹِیشن، لیونارڈو دا وِنچی، مائیکل اینجلو اور رافیل جیسے جینئس مصوروں کی زندگی اور کام کی دنیا سے آگاہ ہوتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے کلاسیکی مصوری اور مجسمہ گری کی تاریخ و تنقید بھی ہے۔
جلد ششم: ”اصلاحِ مذہب“:
یہ جلد چودھویں سے سولھویں صدی تک یورپی دنیا میں آرٹ، سیاست، فنِ تعمیر اور مذہبی و سیکولر قوتوں کی لڑائی کا حال بیان کرتی ہے۔ یہ تین صدیاں کلیسا کی گرفت کمزور پڑنے، عقلیت کی راہ ہموار ہونے سے عبارت تھیں۔ اِس میں سلطنت عثمانیہ، نئی دنیا اور بحری راستوں کی دریافت، عدالتِ احتساب کے مظالم، پرنٹنگ کی ایجاد اور باضابطہ تعلیم کی شروعات کا ذکر ہے۔











