ڈاکٹر اکرم خاور سیمابی شخصیت کے حامل شاعر مصنف محقق و معالج ہیں. دنیا و مافیھا سے بے نیاز اپنے تحقیقی اور تصنیفی و تالیفی و دیگر عملی و ادبی سرگرمیوں میں مگن رہنے والے. ان کی زیر نظر کتاب ”مرزا غالب اور مختلف نکتہ ہائے نظر‘‘ ایک اہم تحقیقی و تنقیدی تصنیف و تالیف ہے جس میں اردو کے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ خاں غالب کی شخصیت، فن، فکر اور ادبی خدمات کا مختلف زاویہ ہائے نظر سے جائزہ لیا گیا ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد غالب کی شاعری اور ان کے عہد کو محض روایتی تنقیدی و تحقیقی پیمانوں تک محدود رکھنے کے بجائے جدید تحقیقی، فکری اور وجودیاتی تناظر میں سمجھنے کی جدید کوشش ہے۔ یادگار غالب سے اب تک بے شمار کتابیں اور مضامین مرزا غالب پر لکھے جا چکے ہیں مگر غالب شناسی ایک ایسا میدان ہے جس میں اب بھی بے پناہ کام کرنا باقی ہے. صوبہ بلوچستان میں غالب شناسی پر بہت ہی کم کام ہوا ہے پروفیسر صابر بولانوی نے بھی غالب پر قابل قدر کام کیا ہے مگر وہ ہنوز اشاعت طلب ہے. ڈاکٹر اکرم خاور نے اردو ادب کے اس اہم موضوع پر لکھ کر اپنی انفرادیت قائم رکھی ہے. اگر اس کتاب کی اہمیت و افادیت کا ذکر کیا جائے تو یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہ ہوگا کہ ان کی یہ کتاب غالبیات کے طالب علموں، محققین اور اردو ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے یکساں طور پر مفید ہے.
اسلوبِ تحقیق و تحریر کی بات کی جائے تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ کتاب کے محقق و مدون نے اپنی تحقیقی دیانت، استناد اور تجزیاتی بصیرت کا بڑی عمدگی سے مظاہرہ کیا ہے۔ اسلوبِ تحریر علمی ہونے کے باوجود رواں، سادہ اور دل نشین ہے۔ مصنف نے محض معلومات کی فراہمی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ہر موضوع پر تنقیدی تجزیہ اور فکری مباحث کو بھی کسی حدد شامل کتاب کیا ہے۔ حوالہ جات کے استعمال، تاریخی شواہد کی فراہمی اور ادبی متون کے استناد میں تحقیقی اصولوں کی جھلک ملتی ہے۔
مصنف کا اندازِ تحقیق معروضیت پر مبنی ہے۔ انہوں نے غالب کی شخصیت اور شاعری کو عقیدت یا مخالفت کے بجائے تنقیدی شعور کے ساتھ دیکھا ہے۔ مختلف آراء پیش کرکے ان کا بنظر غائر جائزہ لیا گیا ہے جس سے کتاب کی علمی اہمیت و افادیت بہت بڑھ گئی ہے۔
کتاب کی ابواب بندی نہایت منظم اور منطقی محسوس ہوتی ہے۔ تقریباً ہر باب اپنے موضوع کے اعتبار سے اگلے باب کی تمہید فراہم کرتا نظر آتا ہے۔ اس ترتیب سے قاری غالب کی شخصیت، عہد اور فن کے مختلف پہلوؤں کو بتدریج سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
کتاب کے ابتدائی حصے میں مرزا غالب کی حیات، خاندانی پس منظر، تعلیمی ماحول، معاشرتی حالات اور ادبی سفر کو کسی حد تک تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس باب میں غالب کی شخصیت کے ان پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے جنہوں نے ان کے فکری اور شعری رویّوں کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ سوانحی مواد کی پیشکش تحقیقی حوالوں کے ساتھ کی گئی ہے جس سے اس باب کی مستند حیثیت سامنے آتی ہے۔غالب کی زندگی غموں کا مجموعہ تھی ان کے کئی بچے ہوئے مگر کوئی بھی ایک ڈیڑھ سال سے زیادہ عمر نہ پا سکا، ساری عمر کرائے کے مکانوں میں رہے اور ان کی اپنی اہلیہ سے نوک جھونک بھی آخر دم تک چلتی رہی.مگر میدان سخن میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیے کہ ان کا نام اردو ادب میں امر ہوکر رہ گیا.
کتاب کے ایک باب میں غالب شناسی اور غالب تنقید کی روایت کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مختلف ادوار کے ناقدین کی آراء کو یکجا کرکے غالب کی شاعری کے فکری، فنی اور جمالیاتی محاسن پر گفتگو کی گئی ہے۔ مصنف نے یہ واضح کرنے کی سعی کی ہے کہ غالب کی شاعری ہر دور میں نئے معانی و مفاہیم اور نئی تعبیرات پیدا کرتی رہی ہے، اسی لیے ان پر تنقیدی مباحث کبھی ختم نہیں ہوسکے ۔
کتاب کا اگلا باب تاریخی اور ادبی پس منظر کی وضاحت کے اعتبار سے نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ مصنف نے غالب سے دور سے قبل کی اردو شاعری کے رجحانات، کلاسیکی روایت اور دہلی کے علمی و ادبی ماحول کا جائزہ لیا ہے۔ اس کے بعد عہدِ غالب کے سیاسی، سماجی اور تہذیبی حالات کو بیان کرتے ہوئے یہ دکھایا گیا ہے کہ ان حالات نے غالب کی فکر اور شاعری پر کس طرح اثرات مرتب کیے۔ اس باب کے مندرجات کی روشنی کے ذریعے غالب کے شعری کمالات کو عصر غالب کے تناظر میں سمجھنے میں مدد میسر آتی ہے۔ تفہیم کلامِ غالب کے لیے یہ باب اکسیر کا درجہ رکھتا ہے.
کتاب کا ایک اہم حصہ اردو غزل کی تاریخ، ارتقا اور فنی خصوصیات پر سیر حاصل بحث کا حامل ہے ۔ مصنف نے غزل کی روایت کو ابتدائی دور سے غالب تک اور غالب کے بعد کے ادوار تک مربوط انداز میں بیان کیا ہے۔ غزل کے موضوعات، ہیئت، زبان اور اسلوب کے حوالے سے تحقیقی تحریر کتاب کے محاسن کا اہم حصہ ہے۔
غزل کے عملیاتی اور وجودیاتی تصورات
کے بارے میں یہ باب کتاب کی انفرادیت کو واضح طور پر نمایاں کرتا ہے۔ مصنف نے اردو غزل کو جدید تنقیدی نظریات، خصوصاً وجودیت اور عملی تنقید کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ غالب کی شاعری میں انسانی وجود، کائنات، تقدیر، آزادی، تنہائی اور معنویت جیسے موضوعات کا گہرا مطالعہ بھی ان کے پیش نظر رہا ہے۔ اس باب سے فاضل مصنف و مولف کی ادبی فکری وسعت،سخن شناسی اور جدید تنقیدی رجحانات پر گرفت کا اندازہ ہوتا ہے۔
میری نگاہ میں یہ کتاب غالبیات کے مطالعے میں ایک اہم اضافہ ہے۔ ہوسکتا ہے کہ قارئین میری اس رائے سے کامل اتفاق نہ کریں البتہ اس کے باوجود اس کتاب کی اہمیت سے سر مو انکار ممکن نہیں.
اس کتاب کے مشمولات میں سوانح، تنقید، تاریخِ ادب اور نظریاتی مباحث کو احسن انداز میں یکجا کیا گیا ہے۔ مصنف نے غالب کی شاعری کو محض روایتی تنقیدی پیمانوں سے نہیں پرکھا بلکہ جدید فکری تناظر میں اس کی ادبی معنویت کو بھی اجاگر کرنے کی سعی بلیغ فرمائی ہے۔ یہی خصوصیت کتاب کو دیگر کتابوں سے ممتاز بناتی ہے۔
غالب کے بارے اگر یہ کہا جائے کہ غالب سب پر غالب ہے تو غلط نہیں ہوگا. ان کی عظمت کا اعتراف تو علامہ اقبال جیسی نابغہ عصر شخصیت نے بھی کیا ہے وہ کہتے ہیں:
لطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں
ہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہے نشیں
جب تک اردو قائم و دائم ہے، غالب کا نام ادب کے افق پر جگمگاتا رہے گا.
ڈاکٹر اکرم خاور کی یہ تحقیقی کاوش بحیثیت مجموعی ایک وقیع،فصیح ،جامع اور تحقیقی نوعیت کی کتاب ہے۔ اس کی مربوط ابواب بندی، مستند تحقیقی اسلوب، تنقیدی گہرائی اور فکری تنوع،معنوی حسن اسے غالب شناسی کے میدان میں ایک قابلِ قدر تصنیف کا درجہ عطاء کرتے ہیں۔ یہ اہم کتاب جہاں مرزا غالب جیسے عہد آفریں شاعر کی شخصیت اور شاعری کو سمجھنے میں معاون ہے وہاں اردو غزل کی فکری اور فنی روایت کے مطالعے میں بھی اہم رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ علمی و تنقیدی بصیرت اور تحقیقی سنجیدگی کے اعتبار سے یہ کتاب اردو ادب کے طلبہ، اساتذہ اور محققین کے لیے نہایت مفید اور قابلِ مطالعہ ہے. امید ہے کہ ڈاکٹر اکرم خاور کے اشہب قلم کے اس شاہکار کا شمار غالب شناسی کے اہم فن پاروں میں ہوگا.











